Search This Blog

Saturday, 16 August 2014

‏‎Awais Haider‎‏ اور ‏‎Ali Yousuf‎‏ نے ‏‎Muhammad Murtaza Turabi‎‏ کا ‏حالیہ کیفیت‏ مشترک کیا ہوا ہے۔


9
‏‎Awais Haider‎‏ اور ‏‎Ali Yousuf‎‏ نے ‏‎Muhammad Murtaza Turabi‎‏ کا ‏حالیہ کیفیت‏ مشترک کیا ہوا ہے۔
‏‎Muhammad Murtaza Turabi‎‏ نے ‏5‏ نئی تصاویر شامل کی ہیں۔ — ‏‎Iso Pak Qta Div‎‏ اور ‏‏18‏دیگر‏ کے ساتھ۔
سید حسن نصر اللہ نے داعش سے مقابلےکے لئے سنجیدگی کی ضرورت پرتاکید کی
حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے کہا ہے کہ شام میں حزب اللہ کے اقدامات ، اس ملک کی بدامنی، لبنان میں پھیلنے سے روکنے کے لئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے کہا ہے کہ شام میں حزب اللہ کے اقدامات ، اس ملک کی بدامنی، لبنان میں پھیلنے سے روکنے کے لئے ہیں۔ انہوں نے لبنان کے الاخبار کو ایک انٹرویو میں جو جمعہ کے دن شائع ہوا کہا کہ داعش کے دہشت گرد علاقے میں پھیل گئے ہیں اور جو بھی ان کے سامنے استقامت اور پائمردی کا مظاہرہ کرے اور قوموں کو تباہی سے بچائے، اس کا شکریہ ادا کرنا چاہئے نہ کہ اس کی ملامت کرنی چاہئے۔
حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ اس وقت سب کو اسی خطرے کا سامنا ہے جس کے بارے میں حزب اللہ نے تین سال پہلے آگاہ کیا تھا۔ آج سب اسی کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ آج جس شخص میں توانائی ہے اس پر ضروری ہے کہ وہ لبنان، شام، عراق، فلسطین سمیت پورے علاقے میں مسلمانوں، عیسائیوں اور مذہبی اقلیتوں کی حفاظت کے لئے جنگ میں شامل ہو۔انہوں نے اسی طرح دہشت گرد گروہ داعش کے ہاتھوں دوسروں کے قتل عام کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ عراق کے واقعات کو شیعہ - سنی لڑائی کہہ رہے ہیں لیکن وہ بتائیں کہ نینوا اور صلاح الدین صوبوں میں شيعہ مسلمانوں کی کتنی آبادی ہے؟ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے سنی فرقے کے لوگوں کو بڑی تعداد میں بے گھر کر دیا، ان کی مساجد، مزارات اور قبرستانوں، اورشیعہ مسلمانوں کے روضوں سے پہلے تباہ کر دیا۔ سنی مسجدوں کے اماموں اور سنی قبائل کے سرداروں کو مار ڈالا صرف اس بات پر کہ انہوں نے داعش کے خود ساختہ خلیفہ کی بیعت سے انکار کر دیا تھا۔حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل نے اسی طرح عراق میں عیسائیوں اور ایزدی برادری کے خلاف داعش کے بزدلانہ اقدامات کی جانب اشارہ کرتے ہوئےسوال کیاکہ یہ کون سا انصاف ہے کہ دسیوں ہزار لوگ پہاڑوں میں پناہ لیں اور ان کا محاصرہ کیا جائے یہاں تک کہ وہ دنیا کے سامنے بھوک اور پیاس سے مرجائیں؟سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ داعش کے پاس جو جنگی ساز و سامان ہے وہ بہت زیادہ ہے اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ بہت بڑا خطرہ ہے جس کی طرف سے سب کو فکر مند ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ حکومتیں جانتی ہیں کہ انہوں نے کن لوگوں کو تربیت دی ہے، اس لئے اب وہ داعش کو سب سے بڑا خطرہ تصور کرتی ہیں کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ ان کے پاس کیا چیزیں ہیں۔ سید حسن نصر اللہ نے زور دیا کہ داعش کے خطرے سے بالکل نمٹا جا سکتا ہے، اسے شکست دی جا سکتی ہے لیکن اس کے لئے سنجیدگی کی ضرورت ہے۔