Search This Blog

Wednesday, 20 August 2014

Muhammad Amin Shaheedi added 8 new photos. 12 hrs · پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک وفد نے سینیٹر رحمن ملک کی قیادت میں علامہ محمد امین شہیدی سے ملاقات کی ۔ وفد میں ندیم افضل چن چئیرمین اسٹینڈنگ کمیٹی ، صابر بلوچ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ، اخونزادہ چٹان ممبر قومی اسمبلی اور دیگر شامل تھے۔ وفد سے بات کرتے ہوئے علامہ امین شہیدی نے کہا کہ



Muhammad Amin Shaheedi added 8 new photos.
12 hrs · 
پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک وفد نے سینیٹر رحمن ملک کی قیادت میں علامہ محمد امین شہیدی سے ملاقات کی ۔ وفد میں ندیم افضل چن چئیرمین اسٹینڈنگ کمیٹی ، صابر بلوچ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ، اخونزادہ چٹان ممبر قومی اسمبلی اور دیگر شامل تھے۔ وفد سے بات کرتے ہوئے علامہ امین شہیدی نے کہا کہ
موجودہ حالات کو اگر حکومت نے دانشمندی سے حل نہ کیا تو قوم دس سے بارہ سال پیچھے چلی جائے گی ۔دوسری طرف اس ملک میں حکومت اور اسٹیبلیشمنٹ نے جس طرح شدت پسند عناصر کو پروموٹ کیا حتیٰ کہ اداروں میں بھی ان کو پروموٹ کیا گیا تھا۔ اور پھر اس کے نتائج کو اس ملک کے عوام نے دیکھا۔ اب ان معاملات میں ایک موڑآیا ہے ۔ پاکستان میں عوام کی اکثریت معتدل اور امن پسندہے ان معتدل لوگوں کو سپورٹ کرنا وطن کی ضرورت ہے ۔ تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو چاہیے کہ شدت پسندوں کی حوصلہ شکنی کریں اور وطن سے محبت رکھنے والی معتدل قوتوں کو زیادہ سے زیادہ سپورٹ کریں ۔ شدت پسندی روکنے کا اس سے بہترین حل اور کوئی نہیں ہو سکتا ہے ۔ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے آئین کی بالا دستی ، کرپشن کے خاتمے، فرقہ واریت اور شدت پسندی کی بیخ کنی اور ایک عادلانہ نظام کے قیام کے لیئے قدم اٹھایا تو مجلس وحدت مسلمین نے شعوری طور پر ان کا ساتھ دیا۔ہمارا مقصد ارض وطن سے ظلم اور ظالمانہ نظام کا خاتمہ اور عدل و انصاف پر مبنی نظام کا قیام ہے۔ اور موجودہ تحریک کا بنیادی مقصد یہی ہے۔ نواز شریف حکومت نے بے گناہوں کا قتل عام کیا ،دہشت گردوں اور شدت پسندوں کا ساتھ دیا،انتخابی دھاندلی کا بھر پور مظاہرہ کیا اور جمہوریت کے نام پر خاندانی بادشاہت کا نظام قائم کیا اور پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام کو انسان نہیں مویشیوں کا ریوڑ سمجھا۔ پاکستان تب ہی ترقی کر سکتا ہے جب اس کرپٹ نظام کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے اور اس کی جگہ ایک منصفانہ اور عادلانہ نظام قائم ہو ۔
موجودہ تحریک اب اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے ۔ مجلس وحدت مسلمین کے قائدین پاکستان عوامی تحریک اور دیگر اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر ہر گزرتے لمحے اپنی نئی حکمت عملی بنانے میں مصروف ہیں ۔پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ ملک کواس بحران سے نکالنے اور ان تمام بیماریوں سے نجات دلانے کے لیے اپنا مثبت رول ادا کرے اور ن لیگ کی ہٹ دھرمی اور نواز شریف خاندان کے غرور کو توڑنے میں تحریک کا ساتھ دے ۔